بنگلورو،30؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) چنّاپٹنا اسمبلی سیٹ سے بی جے پی امیدوار یوگیشور کا کہنا ہے کہ مودی اور یوگی کے دورہ سے بی جے پی کو فائدہ نہیں پہنچنے والا کیونکہ کرناٹک کے لوگ میچیور ہیں اور علاقائی ایشوز کو اہمیت دیتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جوڑی کو بی جے پی والے کسی بھی ریاست میں انتخابی تشہیر کے لیے بہترین جوڑی تصور کرتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ دونوں’ہندوتوا‘ کے نمائندہ چہرہ ہیں۔ چونکہ بی جےپی ترقی کے نام پر انتخاب جیتنے سے قاصر ہے اس لیے ہر ریاست میں مودی-یوگی کی جوڑی بھگوا لہر پیدا کر کے انتخاب جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کرناٹک انتخابات میں ان کی یہ کوشش ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اس کا احساس ریاست کے بی جے پی امیدواروں کو بھی ہونے لگا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کرناٹک کی چنّاپٹنااسمبلی سیٹ سے پارٹی امیدوار سی پی یوگیشور نے واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ’’مودی جی کا جادو لوک سبھا انتخاب میں چلا تھا لیکن اس بار کے اسمبلی انتخاب میں ان کا جادو نہیں چلنے والا کیونکہ بی جے پی نے صحیح امیدوار کھڑے نہیں کیے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ ’’یہ اتر پردیش نہیں ہے۔ یہ جنوبی ہندوستان ہے۔ ہم میچیور لوگ ہیں۔ سبھی چاروں جنوبی ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں مضبوط ہیں۔ یہاں ایشوز الگ ہیں۔‘‘
یوگیشور کے اس بیان کے بعد بی جے پی میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔چونکہ اسمبلی انتخابات میں اب محض 12 دن بچے ہیں اس لیے بی جے پی کے لیے مشکلیں کھڑی ہو گئی ہیں۔ پہلے ہی ریاست میں کانگریس کی حالت بہتر نظر آرہی ہے اور جنتا دل سیکولر نے بھی انتخابات سے پہلے یا بعد میں بی جے پی کے ساتھ کوئی اتحاد کرنے سے انکار کر دیا ہے، ایسی صورت میں اپنے ہی امیدوار کے متنازعہ بیان سے بی جے پی کا پریشان ہونا لازمی ہے۔ یوگیشور کے اس بیان سے نہ صرف ریاست میں پارٹی کی حالت مزید کمزور ہوگی بلکہ ان کا بیان نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی شبیہ پر بھی کیچڑ اچھالنے کے مترادف ہے۔
دراصل اپنی بات کو بے باک انداز میں میڈیا کے سامنے رکھنے والے یوگیشور 1999 سے لگاتار چنّاپٹنا سیٹ سے نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ اس سیٹ سے کانگریس اور سماجوادی پارٹی کا امیدوار رہتے ہوئے فتح یاب ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار کی شکل میں بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس سیٹ پر ان کی گرفت کافی مضبوط ہے اس لیے وہ بغیر کسی دباؤ میں بیان دے رہے ہیں۔ بی جے پی نے جب کرناٹک میں پہلی بار 2008 میں حکومت تشکیل دی تھی تو اس وقت یوگیشور وزیر جنگلات بھی رہ چکے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں یوگیشور کئی پارٹیوں کے ساتھ جڑ چکے ہیں اور ہمیشہ ہی اس چنّاپٹنا سیٹ سےکامیابی حاصل کی۔ 2013 میں تو انھوں نے جنتا دل سیکولر لیڈر کماراسوامی کی بیوی انیتا کماراسوامی کو بھی شکست دی تھی۔ اپنی فتح کے تئیں پرامید یوگیشور اس بار بی جے پی سے کسی اچھی کارکردگی کی امید نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی کی اس علاقے میں کوئی موجودگی نہیں ہے، کوئی کیڈر نہیں ہے۔ میں اسمبلی سیٹ میں اپنے اچھے کاموں کی بدولت جیتتا ہوں۔‘‘
یوگیشور کی اچھی شبیہ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود علاقے کے لوگ انھیں پسند کرتے ہیں۔ مسلم طبقہ بھی ان کے کام سے خوش نظر آتا ہے لیکن اس بار وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یوگیشور کو ووٹ جائے یا نہیں، کیونکہ وہ بی جے پی سے امیدوار ہیں۔ 55 سالہ یوگیشور یقیناً بی جے پی کی خراب شبیہ کا اثر اپنے اوپر نہیں پڑنے دینا چاہتے ہیں اسی لیے انھوں نے یہ کہنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کی کہ ’’جنوبی ہند میں تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک میں علاقائی پارٹیوں کا اثر زیادہ ہے۔ بی جے پی بھی مضبوط بننے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بغیر زمینی لیڈر اور کارکن کے۔‘‘ ان کا اشارہ صاف ہے کہ صرف مودی اور یوگی اپنا چہرہ دکھا کر ہر ریاست میں انتخاب نہیں جیت سکتے بلکہ وہاں مقامی کیڈر بھی تیار کرنا ہوگا جو ریاست کے لیے کام کر سکیں۔
واضح رہے کہ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات 12 مئی کو ہوں گے اور گنتی 15 مئی کو ہوگی۔ بی جے پی کی جیت کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی پوری ٹیم ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن ابھی تک جو انتخابی سروے میڈیا چینل نے دکھائے ہیں اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ جنتا دل سیکولر کو کئی سروے میں کنگ میکر کی شکل میں دکھایا گیا ہے جس کے سربراہ دیوگوڑا نے یہ بیان دے کر بی جے پی کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے کہ وہ انتخاب سے پہلے یا بعد بی جے پی سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں کریں گے۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات، بی جے پی لیڈر نے کہا ،پارٹی نے کئی سیٹوں پر نہیں اتارے بہتر امیدوار، ناکام ہوگی مودی لہر
بنگلورو 30اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کرناٹک میں 12 مئی کو اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، مگر ریاست میں انتخابات سے پہلے بی جے پی اور کانگریس کی درمیان بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ریاست میں سیاسی بازی جیتنے کے لئے بی جے پی اور کانگریس نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے اس بار بی جے پی ان انتخابات میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے؛ لیکن ریاست میں انتخابات سے پہلے بی جے پی کے امیدوار سی پی یوگیشورا نے پارٹی کے خلاف بیان دے کر بی جے پی کے لئے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔شائع رپورٹ کے مطابق 55 سالہ بی جے پی لیڈریوگیشورا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ریاست کی تمام 224 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں مگر کئی سیٹوں پر بہتر امیدوار کا انتخاب نہیں کیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں سی پی یوگیشور نے کہا کہ کرناٹک انتخابات میں نریندر مودی کا جادو نہیں چل پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا جادو لوک سبھا انتخابات میں چلا تھا ؛لیکن اس بار کے اسمبلی انتخابات میں ان کا جادو نہیں چلنے والا ہے؛ کیونکہ بی جے پی نے بہتر امیدوار کا انتخاب نہیں کیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات جیسا نہیں ہے۔ جنوبی بھارت میں تامل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک میں علاقائی پارٹیوں کا اثر زیادہ ہے۔ بی جے پی بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بغیر زمینی لیڈر اور کارکن کے سی پی یوگیشور رام نگر ضلع کی چناّپٹنہ اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار ہیں ۔